فسطائیت (فاشزم) کیا ہوتا ہے؟ کونسی ریاست فسطائی ریاست ہوتی ہے؟

مصنف: عامر ظہیر (استاد، مصنف، بلاگر، یوٹیوبر)

فسطائیت ایک سیاسی نظام ہے جن کی خصوصیات آمریت، اندھی قوم پرستی، طاقت کے زور پر اپوزیشن کو دبانا، انسانی آزادیوں اور حقوق پر قدغن لگانا ہے۔ فسطائیت کی عمدہ مثالیں دوسری جنگ عظیم سے پہلے مسولینی کی اٹلی اور ہٹلر کی جرمنی تھیں۔ فسطائیت کا یہ لفظ بھی اٹلی سے وجود میں آ چکا ہے۔ موجودہ جمہوری دور میں بھی دنیا کے کئی ممالک میں غیر اعلانیہ طور پر یہ نظام لاگو ہے۔ مغربی ممالک کی طرف سے ولادیمیر پوٹن کے روس اور شی جن پنگ کے چین کو فسطائی ریاستیں قرار دیے جا رہے ہیں۔ مودی کے زیر حکومت ہندوستان بھی جمہوریت سے فسطائیت کی طرف گامزن ہے۔ آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک فسطائی ریاست کیسے بنتی ہے اور ان کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں۔

فسطائیت کی خصوصیات

فسطائی ریاست کی جانب سے اپنے لیے ایک مشترکہ دشمن مقرر کیا جاتا ہے۔ یہ دشمنی نسلی، مذہبی، فرقے یا نظریے میں کسی بھی بنیاد پر ہو سکتی ہے۔ پھر ہر وقت قومی سلامتی کو خطرے کا پرچار کیا جاتا ہے کہ ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا ہے۔ اس بار بار پروپیگنڈے کے ذریعے عوام کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ حب الوطنی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق سے دستبردار ہو جائے۔ یہاں تک کہ قانون و آئین کو بھی ریاست کے سامنے ثانوی درجہ دینے کی کوشش کی جاتی ہے يعنی کہ ریاست کے مفادات کے نام پر آئین کو پاؤں تلے روند ڈالنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ پرچموں، ملی نغموں اور قومی نعروں کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے حب الوطنی کو اندھی قوم پرستی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں جب سمجھدار لوگ اس کھیل کو بے نقاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا اسکا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں تو ان کو غدار اور ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔

فوج

اس نظام میں عسکری اداروں کی کارکردگی کو خصوصی طور پر ابھارا جاتا ہے۔ فوج کو ملک کا ضامن اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور فوج کے خلاف تنقید کو ریاست کے خلاف تنقید قرار دے کر تنقید کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔

میڈیا

اس طرزِ حکومت میں میڈیا کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں رکھا جاتا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی پر پابندی ہوتی ہے۔ میڈیا کو سنسر شپ کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے اور ان تمام صحافیوں پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے جو ان فاشسٹ ٹولے کی حقیقت کو عوام کے سامنے بیان کرنے کی جسارت کرتے ہیں۔

جرمن حکمران ہٹلر اطالوی حکمران مسولینی

مذہب

مذہب کی تشریح کے لیے درباری ملاؤں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ تنخواہ دار مذہبی طبقہ اپنے آقاؤں کے اشاروں پر مذہب کی تشریح اصل کے بجائے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تبدیل کرکے کرتے ہیں۔ چونکہ تیسری دنیا میں لوگ مذہب کے ساتھ زیادہ وابستگی رکھتے ہیں لہذا مذہب کے نام پر آسانی سے دھوکا کھا جاتے ہیں اور جب ان کو حقیقت معلوم ہوجاتا ہے تو پھر اگلا دور ہوتا ہے۔

علم و ادب

اس نظام میں تازہ خیالات اور تخلیقی کام کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتا۔ ان تازہ خیالات کے سامنے کئی قسم کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی بند باندھ دیے جاتے ہیں۔ یوں تخلیقی صلاحیت رکھنے والے شاعر، ادیب، استاد اور دانشور ڈر کے مارے دب جاتے ہیں یا بیرون ملک فرار ہو جاتے ہیں۔

عہدوں کی تقسیم

فسطائیت کے شکار ممالک میں عہدوں اور ملازمتوں کی تقسیم میں اقرباء پروری سے کام لیا جاتا ہے لوگوں کے درمیان میرٹ کے بجائے وفاداری پر عہدے اور اختیارات تقسیم کیے جاتے ہیں۔

انتخابات

جب کبھی بھی انتخابات ہوتے ہیں تو وہ شفاف نہیں ہوتے انتخابات کے عمل کو طرح طرح کے طریقوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور اپنے من پسند پارٹی یا پارٹیوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور اگر برخلاف جماعت یا جماعتیں اقتدار کے حصول میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو ان کو مختلف طریقوں سے تنگ کرکے مجبور کیا جاتا ہے کہ یا تو اقتدار سے الگ ہو جائے یا فسطائیت کی راستے پر چلنے کے لیے تیار ہو جائے۔

جائزہ

اب ان تمام نشانیوں پر غور کرکے آج ہم اپنی اپنی ریاست کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ ان میں سے کتنی نشانیاں ایسی ہے جو ہماری ریاست کے اندر پائی جاتی ہیں۔ جتنی نشانیاں ہم کو نظر آئینگے اس حد تک ہم اپنے آپ کو فسطائیت میں ڈوبے ہوئے پائیں گے ۔ یاد رہے کہ فسطائیت کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔

جنرل ضیاء الحق کا ہنگامہ خیز دور حکومت: کیا اچھا کیا برا

مودی حکومت میں بھارتی مسلمانوں کا حال، مکمل مضمون

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *